کاروار :16؍ فروری (ایس اؤ نیوز) کاروار سے بھٹکل تک قومی شاہراہ 66سے متصل سروے نمبر کی زمینات کو منتقل کرکے اپنے مختلف مقاصد کے لئے استعمال کرنا عوام کے لئے دشوار ہوگیا ہے۔ عوام اپنی زمینات کی منتقلی کے لئے عرضی داخل کرکے این اؤ سی کےلئے قومی شاہراہ اتھارٹی دفتر کے چکر کاٹ کاٹ کر سست ہوئے جارہےہیں اور این ایچ اے آئی این اؤ سی دینےمیں کافی تاخیر کئے جانے پر عوام سخت ناراض ہیں اور قومی شاہراہ منصوبہ جات ڈائرکٹر کی آفس منگلورو میں واقع ہونے سے ہی دیری ہونے کا عوام نےالزام لگایا ہے۔
ساحلی پٹی کے تین اضلاع کے متعلق قومی شاہراہ اتھارٹی کا دفتر منگلورو کے کنکناڑی میں واقع ہے وہیں سے خدمات انجام دی جارہی ہیں۔ اترکنڑا ضلع سے گزرنے والی قومی شاہراہ سے متصل زمینات کے مالکان اپنی زمین پر تعمیر یا کسی تجارتی مقصد کےلئے استعمال کرنا ہے تو منگلورو میں واقع قومی شاہراہ اتھارٹی کے دفتر سے این اؤ سی لینی ہے۔ ایک سال ہوگیا ابھی تک این اؤسی فراہم نہیں کی گئی ہے۔ زمین مالکان اپنی زمین کی منتقلی کے لئے متعلقہ گرام پنچایت ، میونسپالٹی میں عرضی داخل کرتےہیں۔ قومی شاہراہ کے درمیان سے 40میٹر تک کسی بھی طرح کے ترقیاتی کام کرنے ہیں تو ڈی پروجکٹ ڈائرکٹر پی آئی اؤ نیشنل ہائی وے اتھارٹی آف انڈیا منگلورو سے این اؤسی حاصل کرنا لازمی ہے۔
عرضی داخل کرنےکے بعد اتھارٹی اپنے افسران کے ذریعے جائے وقوع کا معائنہ کراتی ہے اور این اؤ سی فراہم کرتی ہے۔ عرضی داخل کرنے کے کئی مہینوں بعد جب فرصت ملتی ہے تو افسران سروے کے لئے آتے ہیں ۔ ان کے سامنے پوری دستاویزات اہتمام کے ساتھ پیش کرنے کے باوجود این اؤ سی دینے کے لئے برسوں انتظارکرنا پڑتاہے۔عوام برسوں تک 240کلومیٹر دور اتھارٹی کے دفتر کا دس بارہ مرتبہ چکر کاٹنے پر مجبور ہیں۔ این اؤسی تیار ہونے کے بعد بھی اس کو لینے کے لئے منگلورو کو ہی جانا ہے۔ اور جب منگلورو دفتر پہنچتے ہیں تووہاں بھی افسران کو ان کامن پسند تحفہ دینے کے بعد ہی این اؤسی ہاتھ میں آتی ہے۔ ان حالات سے اترکنڑا ضلع کے پانچ تعلقہ جات کے شاہراہ سے متصل زمینات کے عوام کو مشکلات اور دشواریوں کا سامنا ہے۔عوام کو وقت اور پیشہ ضائع کرنا پڑرہاہے۔ ناراض عوام نے اتھارٹی کے اعلیٰ افسران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ساحل کے تینوں اضلاع میں اپنی شاخیں قائم کریں اور متعلقہ اضلاع کے عوام کو راحت دیں۔